بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اردوان شام کی سرزمین سے اسرائیل کے خلاف اپنی جارحیت بڑھانا چاہتے ہیں اور یہ ریاست اس طرح کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
نیتن یاہو کے دفتر نے مزید کہا کہ اسرائیلی رہنماؤں اور فوجیوں کو دھمکانے کی اردوان کی 'قابل رحم کوشش' کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اردوان کو "یہود دشمن ڈکٹیٹر" قرار دیا اور ان پر کردوں کے خلاف قتل عام، حماس تحریک کی حمایت اور اپنے ہی لوگوں کو دبانے کا الزام لگایا!
منگل 27 اگست کو شام نے ملک کے شمال مغرب میں اور ترکی کی سرحد کے قریب فوجی اڈے "ابوالظہور" پر آٹھ اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔
ابواظہور اڈہ ترکی کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور 2013 کے بعد سے ایک فوجی ہوائی اڈے کے طور پر فعال نہیں ہے۔
شام کی خانہ جنگی کے دوران یہ اڈہ حکومتی فورسز اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان کئی بار جا بجا ہؤا۔
ابوالظہور بیس پر یہ صہیونی حملہ اس وقت کیا گیا جب اردوان نے چند روز قبل کہا تھا کہ اگر ضروری ہؤا تو انقرہ اسرائیل کے ساتھ تصادم سے خوفزدہ نہیں ہے لیکن اب تک ترکی نے شام میں ملکی مفادات پر صہیونی حملوں پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
اس حملے کے بعد ترکیہ کے وزیر انصاف نے اعلان کیا کہ انقرہ نے انسانی امداد بھیجنے کے لئے غزہ جانے والے "صمود کاروان" کے بحری بیڑے کے کارکنوں پر حملے کے معاملے پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لئے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ